سلطان العارفین بلاگ | Sultan ul Arifeen Blog

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
*اَلْفَقْرُ فَخَرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ۔
ترجمہ :فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
فقر دراصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت کا نام ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا گنجینہ ہے جس کی طلب ہر مومن و مسلمان کو ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت تک رسائی کسی کسی کا نصیب ہے ہر کوئی اس حقیقت تک رسائی کا اہل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ اور آپ کی حقیقت جیسی حقیقت اور کسی کی نہیں، جو راز آپ کی ذاتِ مبارکہ سے ظاہر ہواوہ کسی اور نبی و مرسل سے ظاہر نہیں ہوا۔ تب ہی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اُمتی ہونے کی دعا کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ لِیْ مَعَ اللّٰہِ وَقْتٌ لَا یَسْعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ میرا ایساوقت بھی ہے جس میں مجھ تک نہ کوئی مقرب فرشتہ پہنچ سکتا ہے اور نہ نبی مرسل۔۔۔۔مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ بے انتہا حسین وجمیل ہے وہ چاہتا تھا کہ اس کے حسن کو کوئی دیکھے، تعریف کرے اور اس میں محو ہو کر ہر چیز بھلا دے۔ اس کے لیے ایک ایسا مجسم آئینہ درکار تھا جس میں وہ اپنا حسن ظاہر کر سکے۔یہی چاہت انسان کی تخلیق کا باعث بنی۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کا سب سے کامل آئینہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ بابرکات بنی۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ نے فرمایا ہے:
* ’’ جان لو کہ جب اللہ واحد نے حجلۂ تنہائی وحدت سے نکل کر کثرت میں ظہور فرمانے کا ارادہ کیا تو اپنے حسن و جمال کے جلوؤں کو صفائی دے کر عشق کا بازار گرم کیا جس سے ہر دو جہان اس کے حسن و جمال پر پروانہ وار جلنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے میم احمدی کا نقاب اوڑھا اور صورتِ احمدی اختیار کی۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
صورتِ احمدی دراصل اللہ تعالیٰ کے نور کی بہترین صورت ہے جس میں کچھ کمی یا خامی نہیں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے۔ چراغ فانوس میں ہے فانوس ایسے ہے کہ ایک موتی جو ستارے کی مانند چمکتا ہے۔ یہ چراغ اس برکت والے پیڑ زیتون کے تیل سے روشن ہوتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔ قریب ہے کہ اس کا تیل ۔۔۔مزید پڑھیں

سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے تھا اور ہوگا۔ (انسانِ کامل۔ سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ )
ایمان مومنین پر اللہ کا احسان ہے اور ایمان کا مرکز و محور آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نسبت و تعلق ہی حقیقتاً ایمان ہے۔ یہ تعلق اگر مضبوط و مستحکم ہو تو ایمان کامل اور اگر کمزور ہو تو ناقص و نامکمل اور اگر خدانخواستہ یہ تعلق ٹوٹ جائے تو ایمان کلیتاً ختم ہو جاتا ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ اس تعلق کو یوں بیان فرماتا ہے:
ترجمہ:پس جو لوگ اس(برگزیدہ رسولؐ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان کی مد د ونصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جوان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔(سورۃ الاعراف۔157)
جو ذات باعثِ کائنات ہے اس سے عشق و محبت ،وفاواطاعت کے بغیر ایمان کے مکمل ہونے کا تصور ہی نہیں۔ اگراللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کر کے مخلوقات میں اپنے ربّ ہونے کو ظاہر کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے۔ اس لئے دین،ایمان،علم، ۔۔۔مزید پڑھیں

ظہورِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے عرب کی سر زمین غبارِ راہ سے کثیف اور جہالت سے گرد آلود تھی۔ کوئی انسانی و معاشرتی تنزلی ایسی نہ تھی جو کہ عرب معاشرے میں موجود نہ تھی اور انسانیت کو شرماتی نہیں تھی۔ سر زمین عرب صرف تپتا ہوا صحرا ہی نہیں تھی بلکہ جہالت اور حیوانگی کا مظہر تھی۔ عرب کی رگوں میں سختی،اڑیل پن، مردانگی کے بے ڈھنگے مظاہرے اور طاقتور کی حکمرانی کمزور و مظلوم کی سسکیوں کی روانی تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ یہ لوگ اس معاشرے کے عکاس تھے جہاں صنفِ نازک کی قدر صرف ایک بچے پیدا کرنے والی ذات تک ہی محدود تھی۔ جہاں لڑکیوں کی بلوغت ان کے لئے خطرے کی علامت اور لڑکی کی پیدائش نامعلوم قبروں میں ایک اور قبر کے اضافے کا موجب ہوتا تھا۔ جہاں خاندان غلاموں، لونڈیوں، زناکاری اور بے تحاشا لڑکوں کے شوق میں ڈوبے رہتے تھے۔ عزت بس اس عورت تک محدود تھی جو صرف لڑکے پیدا کرتی تھی۔ لوگ قبائل میں بٹے ہوئے تھے اور قبائل جاہلانہ رسوم و رواج میں۔ رُسومات ایسی جو پتھر پر لکیر تھیں اور کسی انسانی جذبے یا ضرورت کی پرواہ نہ کرتی تھیں۔ صحرائے عرب کے لوگوں کی زندگی کا انحصار بھیڑ بکریوں، گھوڑوں، اونٹوں اور کھجوروں پر تھا۔ عرب مشرک لاتعداد فرقوں میں بٹے تھے اور لاتعداد خداؤں پر اعتقاد رکھتے ۔۔۔مزید پڑھیں

جب سے انسان نے اس سیارہ جسے زمین کہتے ہیں پر قدم رکھا ہے۔ اس کے ذہن میں ہمیشہ ایسے سوالات جنم لیتے رہتے ہیں۔

♦  میں کون ہوں؟

♦  میری ابتدا کیا ہے؟

♦  میری انتہا کیا ہے؟

♦  میری حقیقت کیا ہے؟

♦  میری پہچان کیا ہے؟

♦  اگر مجھے تخلیق کرنے والا خالق کوئی ہے تو وہ کون ہے؟ اس کی پہچان کیا ہے؟  میرا مقصدِ حیات کیا ہے؟

ان جوابات کی تلاش کے لیے انسان نے جب بھی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی راہنمائی کے لیے ہر دور میں اور اس زمین کے ہر خطہ میں اپنے نبی اور رسول بھیجے۔ جو انسان کو ان سوالات کے جوابات سے ۔..مزید پڑھیں

مادی جسم کے اندر موجود باطنی انسان ایک جیتا جاگتا وجود ہے جو انسان کی توجہ کا طالب ہے۔ جس طرح مادی جسم کی تندرستی کے لیے صحیح غذا ضروری ہے اسی طرح باطنی وجود کی بھی غذا ہے جس سے وہ سکون محسوس کرتا ہے’ تندرست و توانا ہوتا اور قوت حاصل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ  ط (الرعد۔28)  ترجمہ: بے شک ”ذکر اللہ” سے ہی قلوب کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔یعنی اللہ کے اسم کے ذکر سے انسانی قلب یا روح کو سکون حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہی اس کی غذا اور قوت کا باعث ہے۔ جو انسان اس ذکر سے روگردانی کرتا ہے اس کی روح کو غذا اور رزق نہیں ملتا جو اس کی زندگی اور قوت کے لیے ضروری ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا وَّ نَحۡشُرُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ  اَعۡمٰی(طٰہٰ۔124) ترجمہ: ”بے شک جو ہمارے ذکر سے اعراض کرتا ہے ہم اس کی (باطنی) روزی تنگ کر دیتے ہیں اور قیامت کے روز اسے اندھا اٹھائیں گے۔” اس آیت مبارکہ میں رزق سے مراد یقیناًباطنی رزق ہے کیونکہ ظاہری رزق تو اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو بھی بہت دیاہے جو اللہ کا قطعاً ذکر نہیں کرتے۔..مزید پڑھیں

غوث الاعظم حضرت سیّدناشیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں:مَنْ لَّمۡ یَعۡرِفُہٗ  کَیۡفَ یَعۡبُدُہٗ۔ترجمہ: جو شخص اللہ کو پہچانتا ہی نہیں وہ اللہ کی عبادت کس طرح کر سکتا ہے۔”سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جو شخص اللہ کہنے میں اللہ کی ذات کی معرفت و حقیقت سے آگاہ و آشنا نہیں وہ اللہ کی حقیقی یاد سے غافل ہے۔ (سلطان الوھم)اللہ کو دیکھ کر’ پہچان کر عبادت کرنے میں جو خشوع و خضوع اور حضور قلب کی کیفیت حاصل ہوتی ہے وہ دیکھے بغیر حاصل ہونا ناممکن ہے۔..مزید پڑھیں

ﷲ پر بھروسہ ”توکّل”  کہلاتا ہے۔ ﷲ پاک سے عشق کا تقاضا ہے کہ اپنا ہر کام بلکہ اپنا آپ ﷲ پاک کے سپرد کر دیا جائے۔ توکّل کو ”فقر” کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ مرشد کا پہلا سبق بھی یہی ہوتا ہے اور ایک طالبِ مولیٰ کی نشانی بھی یہی ہے کہ وہ متوکّل ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں بار بار اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے:”اسی پر توکّل کرو اگر تم مسلم ہو۔” (سورۃ یونس۔ 84)حضرت نوح علیہ السلام سے جب ساری قوم پھر جاتی ہے ان کی مخالفت اور عداوت کا اظہار کرتی ہے تو آپؑ فرماتے ہیں:”میرا تو ﷲ پر توکّل ہے تم سب اپنی تدبیریں کر لو۔ ”(سورۃ یونس۔71)۔..مزید پڑھیں

دینِ اسلام باطنی طور پر رجوع الی اللہ یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف رجوع کرنے کا دین ہے اور ظاہری طور پر اسی رجوع الی اللہ کا ذریعہ بننے والے اعمال کا مجموعہ ہے۔ رجوع الی اللہ ہی دین کے تمام ظاہری و باطنی اعمال کا بنیادی مقصد ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے اپنے بندوں کی رہنمائی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے دو ذریعے بنائے یعنی قرآن و سنت۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ دینے، جھٹلانے یا اس کی آدھی ادھوری یا من پسند پیروی کرنے والا دین سے کچھ حاصل نہ کرپائے گا بلکہ دین و دنیا کے۔..مزید پڑھیں